بار
………
بار کے سامنے
دوست ہنستے ہیں جب تیز گاڑی کے پہیے، سڑک کی رگڑ سے پگھلتے ہیں
جلنے کی بو اور چنگھاڑتی تیز رفتار گاڑی اچانک قریب آ کے جھٹکے سے رکتی ہے
پہیوں کی چیخوں میں لپٹی ہوئی گالیوں کی صدائیں ابھرتی ہیں
اور آنے والے کہانی سناتے ہیں
’’فٹ پاتھ نے آج روکا، وگرنہ یہ گاڑی کہیں نہر میں جا نہاتی
مگر کیا کریں،
زندگی، سالی یہ تو تبھی لطف دیتی ہے جب گاڑی اڑنے لگے
ورنہ کیا زندگی!‘‘
بار کی میز پر
چند اوندھے پڑے، چند سیدھے رکھے
کانچ کے جگمگاتے گلاسوں میں رنگوں کی جھلمل ہے
اِس جھلملاہٹ میں رقصاں بدن، لڑکھڑاتے ہوئے دائرے اور لکیریں بناتے ہیں
بے فکرلمحوں میں بے سمت باتیں ہیں
روشن جبینیں، شرابور آنکھیں ہیں
ہاتھوں میں انگارے جلتے ہیں
سانسیں دھوئیں میں پگھلتی ہیں
اور چٹکیوں سے شرارے نکلتے ہیں
ہر شے سے یوں بے خبرہیں
کہ جیسے یہ دُنیا اُ لٹ بھی گئی تو پئے رقص بجتی ہوئی دُھن رُکے گی نہیں
بار کے قمقمے
نیند اور خواب کے درمیاں آ گئے
چند بلوریں یادیں اور ان کو بھلاتے ہوئے دل، لپکتے ہوئے ہاتھ
بھولے ہوئے ہیں کہ یہ رات کا کون سا پہر ہے
پھر اسی موج میں، اپنی گاڑی کی چابی کا چھلا گھماتے ہیں اور ڈگمگاتے ہوئے گاڑیوں تک پہنچتے ہیں
پہیوں کے جلنے کی بو اور چنگھاڑتی تیز رفتار گاڑی کی آواز آتی ہے
فٹ پاتھ پر نیم خوابیدہ بوڑھے فقیروں کے خوابوں کی گٹھڑی میں نوٹوں کی گنتی مکمل نہیں ہونے پاتی
یہ آسودگی میں مگن نوجواں، بے خبر نوجواں
اپنی مستی میں بھولے ہوئے ہیں کہ انگلی میں منّت کے چھلّے،
گلے اور بازو میں تعویذ ہیں
اور کلائی میں گِرہیں لگے کالے دھاگے ہیں
اشکوں سے گوندھے، دعاؤں سے باندھے ہوئے!
